بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے قائم مقام وزرات دفاع کے سربراہ، بریگیڈیئر جنرل پاسدار سید مجید ابن الرضا نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفاعی افواج کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کے ساتھ بات چیت میں، اسلامی انقلاب کے امام شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی وداعی تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تہران ـ اسلام آباد تعلقات گہری جڑوں میں پیوست اور تزویراتی، تاریخی دینی اور ثقافتی اشتراکات پر مذہبی مشترکات پر پر استوار ہیں۔
قائم مقام وزیر دفاع نے اس موقع پر، پاکستانی حکومت، قوم اور مسلح افواج کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور حمایت اور اس راہ میں ان کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران مشکل دنوں میں اپنے دوستوں کی محبت اور معیت کو کبھی بھی نہیں بھولے گا۔
بریگیڈیئر ابن الرضا نے خطے کی حالیہ پیش رفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امریکہ کی بدعہدی کا طویل تجربہ رکھنے کے باوجود، ہم نے دوست اور ہمسایہ ممالک کی درخواست پر، اور اپنی نیک نیتی کو ثابت کرنے کے مقصد سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے، لیکن اگر فریق مقابل جنگ بندی کی کوئی بھی خلاف ورزی کرے تو اس کو اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف کے ضروری اور مضبوط ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ صہیونی ریاست خطے میں عدم تحفظ اور بحران کا اصل سرچشمہ ہے، اور کہا: غزہ، لبنان، شام اور ایران میں اس ریاست کے جرائم سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالم اسلام کو اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ اس خطرے کے مقابلے کے لئے ایک مشترکہ حل اختیار کرنا چاہئے۔
قائم مقام وزیر دفاع نے مغربی ایشیا اور خلیج فارس کی ریاستوں میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کو عدم اعتماد اور عدم تحفظ میں اضافے کا باعث قرار دیا اور کہا: حالیہ جنگ نے ایک بار پھر بیرونی طاقتوں پر منحصر سیکورٹی نظام کے ناکارہ پن کو ثابت کر دیا اور ثابت کیا کہ پائیدار امن، صرف خطے کے ممالک کے درمیان مفاہمت، تعاون اور مثبت تعامل کے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔
بریگڈیئر جنرل سید ابن الرضا نے تہران اور اسلام آباد کے دفاعی اور فوجی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا اور کہا: دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاملات بڑھانا، باہمی اعتماد میں اضافے کے ساتھ مشترکہ سرحدی سیکورٹی میں دوطرفہ تعاون دہشت گرد ٹولوں سے نمٹنے اور خطے میں تخریبی عناصر قوتوں کے امکانات و مواقع کم کرنے میں ممد و معاون ہوگا۔
انھوں نے آخر میں، حالیہ جنگ کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت میں پاکستان کے تعمیری موقف پر اس ملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ایران اور پاکستان نئی سیکورٹی ترتیبات قائم کر رہے ہیں اور ایران کی حکومت اور قوم پاکستانی برادران کی حمایت اور اظہار یکجہتی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور اسلامی جمہوریہ ایران، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ دفاعی، سیکورٹی اور اسٹراٹیجک تعاون کا نیا باب کھولنے کے لئے تیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ